نئی دہلی 6/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی ) یس بینک ، بھارت کا پانچواں سب سے بڑا نجی شعبہ کا بینک اب مالی بحران کا شکار ہوگیا ہے اور بینک کو بچانے کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ایس بینک کے اُمور کو اپنے اختیار میں لے لیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق آر بی آئی نے بینک کے بچاو کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے بینک کی کاروائیوں پر سخت پابندیاں عائد کردی جس کے بعد بینک کھاتے داروں میں ہڑکم مچ گیا اور لوگ جلدی جلدی بینک پہنچ کر رقومات نکالنے کے لئے قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔
ذرائع کے مطابق بڑے پیمانے پر سرمایہ اکٹھا کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے ایس بینک کی مالی حیثیت میں مسلسل کمی آرہی تھی۔ بینک کو گورننس کے امور اور طریق کارکا بھی سنگین مئسلہ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بینک زوال کی طرف رواں دواں تھا۔
پنجاب نیشنل بینک کے مالی بحران میں گھرنے اور ایک بڑا گھوٹالہ سامنے آنے کے ٹھیک چھ ماہ بعدایس بینک میں مالی بحران کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے آربی آئی نے گذشتہ سال دیوان ہاوسنگ فائنانس کارپوریشن کا بھی کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیا تھا اور کہا تھا کہ دیوان کارپوریشن بھی دیوالیہ کے قریب ہے۔
پچاس ہزار سے زیادہ رقم نکالنے پر پابندی: میڈیا رپورٹوں کے مطابق آر بی آئی نے بینک پر اپنا شکنجہ کسنے کے بعد ایس بینک صارفین کو ایک مہینہ میں اپنے ایس بینک کے کسی بھی اکاؤنٹ سے 50،000 روپے سے زیادہ رقم نکالنے پر پابندی عائد کردی ہے
آر بی آئی نے ایس بینک پر موراٹوریم یا پابندی عائد کردی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ مخصوص مدت کے لئے بینک کی سرگرمیوں پر پابندی ۔ یعنی اب کھاتہ دار بینک سے قرض نہیں لے سکیں گے اور اجازت کے بغیر نقد رقم بھی نہیں نکال سکیں گے۔ ایس بینک کا موراٹوریم 5 مارچ سے شروع ہوکر اگلے 30 دنوں تک نافذ العمل رہے گا۔
تاہم ، اگر کھاتہ داروں کو پچاس ہزارروپے سے زیادہ رقم نکالنی ہے تو ایمرجنسی کے تحت تعلیم ، بیماری یا شادی کے لئے رقم نکالی جاسکے گی۔ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ، صارفین کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہونے دیا جائےگا، لیکن دوسری طرف کھاتے داروں میں خوف پایا جارہا ہے اور ملک کے مختلف شہروں کے اے ٹی ایم کے باہر پیسہ نکالنے کے لئے لوگوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ اور لوگوں میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ کئی اے ٹی ایم میں پیسوں کی بھی قلت پائی جائی رہی ہے۔ معاملے کا اثر ایس بینک کے شیئرس پر بھی پڑا ہے اور شئیرس میں بھاری گراوٹ آگئی ہے۔
کھاتے داروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں اپنی گا ڑی کمائی کا پیسہ ڈوبنے کا خطرہ ستارہا ہے۔جبکہ بینک کو بچانے کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی کچھ اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایس بینک میں پھنس گیا مہا پربھو شری جگناتھ جی کا 545 کروڑ روپیہ؛ بھگتوں میں پائی گئی تشویش
ایس بینک میں مہا پربھو شری جگناتھ جی کا 545 کروڑ روپیہ جمع ہونے کی بات معلوم ہوئی ہے، ایس بینک کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں شری جگناتھ کے بھگتوں میں تشویش بڑھ گئی ہے اتنی بڑی مقدار میں بینک کی جمع رقم کس طرح واپس آئے گی اس پر بھگت پریشان ہیں۔
معاملے کو لے کر سماج وادی پارٹی نے وزیراعلیٰ نوین پٹنائک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے ریزرو بینک، وزیر فائنانس نرملا سیتا رمن، اور وزیراعلیٰ مودی سے تبادلہ خیال کریں اور مہا پربھو کی رقم کا تحفظ یقینی بنائیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے نجی بینک پرسرکار کی طرف سے موراٹوریم عائد کی گئی ہے
نرملا سیتارامن کی پریس کانفرنس: ایک طرف سرکار کھاتے داروں کو اس بات کا بھروسہ دلانے میں لگی ہے کہ ان کی رقم محفوظ ہے، وہیں وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے یس بینک کے بحران پر تفصیل سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی آئی نے یس بینک کے حصص خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ سرمایہ کار بینک اگلے تین سالوں میں 49 فیصد حصص لے سکتا ہے ،وہیں اپنی حصہ داری کو 26 فیصد سے کم نہیں کرسکتا ہے۔
یس بینک کے بانی رانا کپور کی ممبئی رہائش گاہ پر چھاپہ ، منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ممبئی میں یس بینک کے بانی رانا کپور کی رہائش گاہ پر جمعہ کے روز چھاپہ مارا۔ اہم بات یہ ہے کہ کپور کے خلاف منی لانڈرنگ کیس معاملے کی جانچ چل رہی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ان کی چھاپہ ماری اُن کےسمندری محل آواس پر کی جارہی ہے۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت کی گئی ہے اور اس کا مقصد مزید شواہد اکٹھا کرنا ہے۔
غور طلب ہے کہ نجی شعبہ کے یس بینک کی مالی حالت خراب ہونے کے چلتے آر بی آئی نے پیسے کی نکاسی پر 50،000 روپے کی پابندی لگائی گئی ہے ، یعنی بینک کا کوئی بھی اکاؤنٹ ہولڈر ایک مہینے میں صرف 50 ہزار روپے نکال پائے گا۔ رقم کی نکاسی کی شرط یہ بھی ہے کہ اگر کسی گاہک کے ایک سے زیادہ اکاونٹ ہیں تو بھی وہ سبھی کھاتوں کو ملاکر صرف پچاس ہزار روپئے ہی نکال پائے گا، یہ پابندی 5 مارچ سے شروع ہوئی ہے جو 3/اپریل تک جاری رہے گی۔ اس دوران بینک کے بورڈ پر آربی آئی کا قبضہ ہوگا۔ آر بی آئی نے یہ فیصلہ حکومت سے مشاورت کے بعد لیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ ایک طویل عرصے سے ، یس بینک کی مالی حالت خراب ہے اور بینک ایک طویل عرصے سے فنڈ جمع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔